الڪيشن ‏جا ‏نتيجا ‏



 NA 221 
پولنگ ٺارو جو پار جي رزلٽ 
پير امير علي شاه 37
 نظام الدين 88
[ رڙاڪر ميل
132 ppp
114 pti
✌✌

 جيتراڙ فيميل
ppp279 
pti 162
: ڪمال ننگر 
پ پ پ 87
پي ٽي آي 59
 ڳوٺ کارڙي 
نظام الدين  راهمون=418
پير امير علي شاھ جيلاني=000
 
  نظام الدين راهمون جي418       وؤٽن تي سوڀ حاصل ڪئي
ڇاڇرو تيلي ڪالوني 
پير 290
نطام
130
 NA 221
 
پولنگ ٺارو جو پار جي رزلٽ 
پير امير علي شاه 37
 نظام الدين 88
کارڙيون پولنگ 418 نظام امير 0
 ساڪري   پي ٽي آ۽  2500 پي پي 100
 جمالاڻي 
پي پي پي -330
پي ٽي آئي ۔150
غيرحتمي غيرسرڪاري
نتيجو
: داديو ھاليپوٽو  Pti
293
Ppp102
حيات هاليپوٽو پوليگ اسٽيشن تي
. 700 مان
نظام الدين. 457
پير امير. 243
 قبولـــــي جو پار پولينڳ اشٽي
نظام الدين 504 
اميـــر علـــي شاھ 202
 ڍاڪڻيون ناٿو
 اميرعلي شاھ 207نظام دين 201
 ڏاهلي بلاڪ 116
نظام الدين 395
امير علي شاھء 245
 ڏاهلي پولينگ
امير علي شاهه 225
نظام الدين 392
 پولنگ اسٽيشن  سوکروم 
نظام الدين  880  
36     امير علي شاھ 
: گوٺ ڇھو نھڙي 
نظام دين راھمون 494
امير علي شاھ 
320
 تڙدوس درس پاڙو
نظام راهمون 211
اميرعلي شاه 170
تحريڪ لبيڪ 11
: ڳوٺ جيسي جوپار ڏيسلاڻي  پاڙو 680 امير علي شاھ 
0000
پولنگ اشٽيشن سجڻ پار 
تحريڪ انصاف 136
پيپلزپارٽي 123

ڪرانگڙي ڏاھلي ڪاٺي جي ويري
نظام الدين 654
امير علي شاھ 608
صوڀي جو تڙ 
  237 امير علي شاھ  
  نظام الدين   43

تبصرے

مشہور اشاعتیں

٭٭٭ اللہ غفور الرحیم ٭٭٭ ایک شرابی کے ہاں ہر وقت شراب کا دَور رہتا تھا. ایک مرتبہ اس کے دوست احباب جمع تھے شراب تیار تھی اس نے اپنے غلام کو چار درہم دیے کہ شراب پینے سے پہلے دوستوں کو کھلانے کے لیے کچھ پھل خرید کر لائے. وہ غلام بازار جا رہا تھا کہ راستے میں حضرت منصور بن عمار بصری رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس پر گزر ہوا وہ کسی فقیر کے واسطےلوگوں سے کچھ مانگ رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ "جو شخص اس فقیر کو چار درہم دے میں اس کو چار دعائیں دوں گا" اس غلام نے وہ چاروں درہم اس فقیر کو دے دیے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا, بتا کیا دعائیں چاہتا ہے...؟ غلام نے کہا میرا ایک آقا ہے میں اس سے خلاصی چاہتا ہوں. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے دعا فرمائی اور پوچھا دوسری دعا کیا چاہتا ہے...؟ غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدل مل جائے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا تیسری دعا کیا ہے...؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میرے سردار کو توبہ کی توفیق دے اور اس کی دعا قبول کرے. آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا چوتھی دعا کیا ہے...؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری, میرے سردار کی, تمہاری اور یہاں مجمعے میں موجود ہر شخص کی مغفرت کرے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی یہ بھی دعا کی. اس کے بعد وہ غلام خالی ہاتھ اپنے سردار کے پاس واپس چلا گیا. سردار اسی کے انتظار میں تھا. دیکھ کر کہنے لگا " اتنی دیر لگا دی...؟ غلام نے قصہ سنایا. سردار نے ان دعاؤں کی برکت سے بجائے غصہ ہونے اور مارنے کے یہ پوچھا کہ کیا کیا دعائیں کرائیں...؟ غلام نے کہا پہلی تو یہ کہ میں غلامی سے آزاد ہو جاؤں..... سردار نے کہا میں نے تجھے آزاد کر دیا,دوسری کیا تھی...؟ غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدلہ مل جائے..... سردار نے کہا میری طرف سے تمہیں چار ہزار درہم نذر ہیں,تیسری کیا تھی....؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ تمہیں شراب وغیرہ فسق و فجور سے توبہ کی توفیق دے.... سردار نے کہا میں نے اپنے سب گناہوں سے توبہ کر لی, چوتھی کیا تھی....؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری,آپ کی, ان بزرگ کی اور سارے مجمع کی مغفرت فرما دے.... سردار نے کہا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے.... رات کو سردار کو خواب میں ایک آواز سنائی دی... جب تو نے وہ تینوں کام کر دیے جو تیرے اختیار میں تھے تو کیا تیرا یہ خیال ہے کہ اللہ وہ کام نہیں کرے گا جس پر وہ قادر ہے....؟ اللہ نے تیری, اس غلام کی, منصور کی, اور اس سارے مجمعے کی مغفرت کر دی ہے.... (ریاض الصالحین صفحہ ۱۲۰)