اشاعتیں
اے وطن کے " سجیلو " جوانو !!!! . یہ غربت تمهارے لیے ہے ..... . ارے چهوڑو !!! پرانی باتیں .... . دجلہ کے کنارے کتا بھی مر جائے ............. !!!!!!!!! . ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
مولانا طارق جمیل صاحب کی میں بہت عزت کرتا ہوں کیونکہ داڑھی رکھنے کا شوق مجھے ان کے بیانات سے ہوا اور پھر جب میں تصوف کی طرف آیا تو اللہ نے اتنی ہمت دی کہ میں نے سنت کی نیت کرکے داڑھی رکھی اور بال بھی لمبے رکھے، وہ بھی کیا دن تھے جب میں روز استرا ہاتھ میں پکڑ کر داڑھی صاف کرنے کا سوچتا کیونکہ لوگ مذاق اڑاتے تھے، کہتے تھے کہ مولوی سے کون شادی کرے گا ہر کوئی مولوی مولوی کہہ کر تمسخر اڑاتا تھا لیکن جب نیت کی تو ذہن ایک دم صاف ہوگیا، اللہ نے شاید اسی نیکی کے اجر میں مجھے ایک اچھی بیوی دی جو ڈاکٹر بھی ہے اور میری عزت اور وقار میں اضافہ بھی کیا، مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب میری دادی بیمار تھیں اور میں ان کو ملنے گیا تو وہ بہت خوش ہوئیں اور بولیں کہ ہمارے خاندان میں ستر سال بعد تم نے داڑھی رکھی ہے تمھارے پر دادا کے بعد کسی نے نہیں رکھی انہوں نے بتایا کہ تمھارے دادا سے لے کر پچھلی 10 پشتوں میں سب کہ سب حافظ قرآن تھے ، یہ جان کر بھی خوشی ہوئی جب انہوں نے بتایا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے دو مساجد بھی تعمیر کیں آج بھی دہلی میں وہ مساجد قائم ہیں، میری دادی کچھ دن بعد اللہ کے پاس چلی گئیں لیکن ان کا مسکراتا چہرہ آج بھی آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے، انسان زندگی بھر سیکھتا ہے اور یہ عمل کبھی ختم نہیں ہوتا ، مولانا طارق جمیل ہوں یا ڈاکٹر زاکر نائیک ہوں یا ڈاکٹر اسرار ہوں یہ لوگ بہت اچھے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کو دین کی طرف لانے کی کوشش کرتے ہیں اور کتنے لوگوں کو راہ راست پر لائے ہیں، جو لوگ دین کی تبلیغ کرنے والوں کی تذلیل کرتے ہیں انہیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیئے کیونکہ اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہے گمراہ ہونے دیتا ہے اس لئے ہمیں اللہ کے اچھے بندوں کو بُرا کہنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیئے ۔ ۔ زریابیاں
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
حضرت موسٰی علیہ اسلام جب کوہ طور پر تشریف لے گئے تو آپ کے پیچھے ایک شخص سامری نے قوم کو گمراہ کر کے شرک پر لگا دیا اور بچھڑا بنا کر قوم کو یہ باور کروایا کہ یہی تمہارا اور موسٰی علیہ اسلام کا الٰہ ہے یہ شخص منافق تھا اس کا اصل نام موسٰی بن ظفر تھا اور بنی اسرئیل ہی کے ایک قبیلہ سامرہ کا ریئس تھا بیان کیا جاتا ہے کہ یہ بھی اسی زمانہ میں پیدا ہوا جس زمانہ میں فرعون نے تمام اسرائیلی لڑکوں کے قتل کا حکم جاری کر رکھا تھا اس کی والدہ اس کی پیدائش کے بعد سخت پریشان ہوئی کہ اب کیا بنے گا فرعونی سپاہی تو میرے بچے کو قتل کردیں گے بچے کو اپنے سامنے قتل ہوتا دیکھنا اس کے بس سے باہر تھا اس نے یہی بہتر سمجھا کہ اسے جنگل میں پہاڑ کے ایک غار میں رکھ کر اس کا منہ بند کر دے اگر اس نے بچنا ہوا تو اللہ تعالٰی بچالے گا اور اگر اس نے مرنا ہوا تو کم از کم میرے سامنے تو نہ مرے گا گویا اس نے بچے کو زندہ در گور کردیا اللہ تعالٰی نے اس بچے کو بچانا تھا چنانچہ حضرت جبریل علیہ اسلام کو اس کی حفاظت اور غذا دینے پر مامور کیا اس بچہ نے حضر ت جبریل علیہ اسلام کی نگرانی میں پرورش پائی جبریل علیہ اسلام جنت سے اس کی غذا لاتے ایک انگلی پر شہد دوسری پر مکھن تیسری پر دودھ لاتے اور اس کو چٹا دیتے یہاں تک ک یہ غار میں ہی پل کر بڑا ہو گیا اور بنی اسرائیل کی قوم میں آکر شامل ہو گیا اور پھر اس نے مکروفریب کر کے ساری قوم کو گمراہ کیا اور خود بھی گمراہ ہوا ادھر موسٰی علیہ اسلام سے بھی اسی ظرح کا واقعہ ہوا کہ ان کی والدہ نے فرعونی سپاییوں کے خوف سے انہیں سمندر میں ڈال دیا اور وہ پھر فرعون کے گھر میں پہنچ گئے اور وہاں پرورش پانے لگے اور پھر جوان ہوئے حتٰی کہ نبوت سے سرفراز ہوئے علماء کرام نے بیان فرمایا ہے کہ دونوں کا نام موسٰی ہے اور خدا کی قدرت کہ ایک کی پرورش فرعون نے کی اور وہ اللہ کے نبی بنے اور دوسرے کی پرورش حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کی اور وہ نہ صرف خود گمراہ ہوا بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کیا ۔ یہ بھی اللہ کی قدرت ہی ہے اور اللہ پاک جو چاہتا ہے کرتا ہے
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
السلام علیکم ہر کسی کا ایک مقصد ہے فیس بک پہ آنے کا میرا فیس بک پر آنے کا صرف ایک مقصد ہے کے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات ساری دنیا کے انسانوں تک پہنچاؤ میں آپ کو بھی دعوت دیتا ھوں کے جومسلمان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت كرتاہے اس اکاونٹ كو #فالو کريں شکریہ اسلام و علکیم اسلامک پوسٹس اور ویڈیوز کے لئے اس اکاونٹ کو #فالو کریں شکریہ
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
شوہر : تم نے عصر کی نماز پڑهه لی ؟ بیگم : نہیں شوہر : لیکن کیوں ؟ بیگم : ڈیوٹی سے تهک ہار کر آئی تهی اور آتے هی تهوڑی دیر کے لیے سوگئ تهی . شوہر : اچها ، چلیں اٹهیے عشاء کی أذان سے پہلے عصر اور مغرب کی نماز ادا کریں . دوسرا دن ....شوہر کام پر گیے ہوئے کئ گهنٹے ہوچکے هیں ، لیکن ابهی تک انہوں نے خیریت سے پہنچنے کی اطلاع کیوں نہیں دی ؟ حالانکہ وه ہمیشہ پہنچتے هی فون یا مسیج کے زریعہ اطلاع دیتا تها ؟!! بیگم بار بار شوہر کا نمبر ملا رهی هے تاکہ تسلی هو کہ میاں سلامت پہنچے هیں بار بار نمبر ملانے کے باوجود دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں بس فون کی گھنٹی هی بجتی رهی ، بیگم کا کلیجہ پهٹنے لگا ، طرح طرح کے وسوسوں اور خوف کی کیفیت ان پر طاری هوگئ ، پریشانی کے عالم میں وه فون کے ساتهه چمٹی مسلسل رابطے کی کوشش کر رهی هے ، کئ گهنٹوں کے جان لیوا انتظار اور کوشش کے بعد دوسری طرف سے فون پر شوہر بول رهے تهے . بیگم : بمشکل اپنی ٹوٹتی سانسوں کو سمیٹ کر پوچهتی هے ، تم خیریت سے تو پہنچے هو نا ؟؟؟ شوہر : جی ، الحمد للہ بیگم : کب پہنچے تهے ؟ شوہر : چار گهنٹے پہلے بیگم :حیرت اور غصے سے چار گهنٹے پہلے ؟ !! اور مجهے فون ؟ شوہر: طبیعت میں تهکان تهی پہنچتے هی کچهه دیر کے لیے آنکهه لگ گئ . بیگم : چند منٹ مجهه سے بات کرتے اور اپنی خیریت سے آگاہ کرتے تو تهکاوٹ میں اضافہ هوتا کیا ؟ پهر اتنی دیر تک میں کال کرتی رهی تم نے فون کی بیل نہیں سنی ؟ شوہر : کیوں نہیں ، سنا تها . بیگم : تعجب سے بس بہت ہوگیا ، یہی محبت هے ؟ میاں : نہیں نہیں ، لیکن کل آپ بهی تو أذان کی آواز سنتی رهی تهی مگر اس پر لبیک نہیں کہا ، جی ہاں أذان کی آواز ، رب العزت کا بلاوا ،!! رب العزت کی پکار !! بیگم : بے اختیار آنسوؤں کی لڑی آنکهوں سے گرتی هے ، کچهه دیر بالکل ساکت و صامت ہوکر ره جاتی هے ، پهر گویا ہوتی هے ، "آپ نے سچ کہا ، مجهے جهنجوڑ دیا هے ، مجهے سخت افسوس هے " شوہر : لیکن معاف کرنا میرے اختیار میں نہیں ، اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرو ،اور آئندہ ایسا مت کرو ، چوں کہ میں چاہتا ہوں هم خیر و بهلائی میں ایک دوسرے کا تعاون کرکے جنتوں کے بهی ساتهی بنیں ...!! ♡ جو شخص آپ سے سچی محبت کرتا هے وه تمہیں اللہ تعالیٰ کی راه میں آگے کرے گا اور خود آپ کے ساتهه کهڑا رهے گا تاکہ آپ واپس پیچهے کی طرف نہ لوٹیں . اگر ھر گھر میں ایسا ھونے لگے آج ابھی سےتو پاکستان کے آدھے مسائل آج روزہ افطاری سے پہلے حتم ھوجاے گے،
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
لوگ کہتے ھے : لاسٹ بلیٹ لوگ کہتے ھیں "شریعت کا نفاذ اور خلافت کا قیام" ھمیں ھزاروں سال پیچھے بھیج دے گا" میں پوچھتا ھوں یہ ھمیں کس زمانے کی طرف لوٹادے گا..؟؟؟ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اور صحابہ کے زمانے کی طرف نا ﴿کیا ھم اس سے بھاگیں گے..؟؟؟﴾ یا عمر فاروق رضی ﷲ عنہ کے زمانے کی طرف کہ جب وہ دو سپرپاور سمجھی جانے والی طاقتوں فارس اور روم کو فتح کر رھے تھے..؟؟؟ یا امویوں کے عھد میں کہ جب وہ خود شام میں ھوتے اور ان کے لشکر اسپین کے دل میں ..؟؟؟ یا بنو عباس کے دور کی طرف کہ جب مغرب ان کے آگے سرنگوں ھورھا تھا یا عبدالرحمن داخل کے عھد میں کہ جب وہ فرانس اور اٹلی کے گلے میں طوق پھنا رھا تھا..؟؟؟ یا عبد الرحمن اوسط کے عھد میں کہ جب وہ اسپین،پرتگال اور جنوب فرانس پر حکومت کر رھا تھا..؟؟؟ یا زنگی اور ایوبی کے زمانے میں کہ جب وہ پورے یورپ کو ناکوں چنے چبوارھے تھے..؟؟؟ یا عثمانیوں کے عھد میں کہ جب ان کا اقتدار افریقہ تک پھیل چکا تھا..؟؟؟ اگر "نفاذ شریعت اور قیام خلافت" ھمیں ان زمانوں میں دھکیل دے گا... تو... کاش.. کاش.. کاش ھم پیچھے چلے جآئیں تا کہ اسلام کی جانب سے ھمیں دی ھوئی عزت اور وقار پھر سے مل جاےٴ
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس