شوہر : تم نے عصر کی نماز پڑهه لی ؟ بیگم : نہیں شوہر : لیکن کیوں ؟ بیگم : ڈیوٹی سے تهک ہار کر آئی تهی اور آتے هی تهوڑی دیر کے لیے سوگئ تهی . شوہر : اچها ، چلیں اٹهیے عشاء کی أذان سے پہلے عصر اور مغرب کی نماز ادا کریں . دوسرا دن ....شوہر کام پر گیے ہوئے کئ گهنٹے ہوچکے هیں ، لیکن ابهی تک انہوں نے خیریت سے پہنچنے کی اطلاع کیوں نہیں دی ؟ حالانکہ وه ہمیشہ پہنچتے هی فون یا مسیج کے زریعہ اطلاع دیتا تها ؟!! بیگم بار بار شوہر کا نمبر ملا رهی هے تاکہ تسلی هو کہ میاں سلامت پہنچے هیں بار بار نمبر ملانے کے باوجود دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں بس فون کی گھنٹی هی بجتی رهی ، بیگم کا کلیجہ پهٹنے لگا ، طرح طرح کے وسوسوں اور خوف کی کیفیت ان پر طاری هوگئ ، پریشانی کے عالم میں وه فون کے ساتهه چمٹی مسلسل رابطے کی کوشش کر رهی هے ، کئ گهنٹوں کے جان لیوا انتظار اور کوشش کے بعد دوسری طرف سے فون پر شوہر بول رهے تهے . بیگم : بمشکل اپنی ٹوٹتی سانسوں کو سمیٹ کر پوچهتی هے ، تم خیریت سے تو پہنچے هو نا ؟؟؟ شوہر : جی ، الحمد للہ بیگم : کب پہنچے تهے ؟ شوہر : چار گهنٹے پہلے بیگم :حیرت اور غصے سے چار گهنٹے پہلے ؟ !! اور مجهے فون ؟ شوہر: طبیعت میں تهکان تهی پہنچتے هی کچهه دیر کے لیے آنکهه لگ گئ . بیگم : چند منٹ مجهه سے بات کرتے اور اپنی خیریت سے آگاہ کرتے تو تهکاوٹ میں اضافہ هوتا کیا ؟ پهر اتنی دیر تک میں کال کرتی رهی تم نے فون کی بیل نہیں سنی ؟ شوہر : کیوں نہیں ، سنا تها . بیگم : تعجب سے بس بہت ہوگیا ، یہی محبت هے ؟ میاں : نہیں نہیں ، لیکن کل آپ بهی تو أذان کی آواز سنتی رهی تهی مگر اس پر لبیک نہیں کہا ، جی ہاں أذان کی آواز ، رب العزت کا بلاوا ،!! رب العزت کی پکار !! بیگم : بے اختیار آنسوؤں کی لڑی آنکهوں سے گرتی هے ، کچهه دیر بالکل ساکت و صامت ہوکر ره جاتی هے ، پهر گویا ہوتی هے ، "آپ نے سچ کہا ، مجهے جهنجوڑ دیا هے ، مجهے سخت افسوس هے " شوہر : لیکن معاف کرنا میرے اختیار میں نہیں ، اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرو ،اور آئندہ ایسا مت کرو ، چوں کہ میں چاہتا ہوں هم خیر و بهلائی میں ایک دوسرے کا تعاون کرکے جنتوں کے بهی ساتهی بنیں ...!! ♡ جو شخص آپ سے سچی محبت کرتا هے وه تمہیں اللہ تعالیٰ کی راه میں آگے کرے گا اور خود آپ کے ساتهه کهڑا رهے گا تاکہ آپ واپس پیچهے کی طرف نہ لوٹیں . اگر ھر گھر میں ایسا ھونے لگے آج ابھی سےتو پاکستان کے آدھے مسائل آج روزہ افطاری سے پہلے حتم ھوجاے گے،

تبصرے

مشہور اشاعتیں

٭٭٭ اللہ غفور الرحیم ٭٭٭ ایک شرابی کے ہاں ہر وقت شراب کا دَور رہتا تھا. ایک مرتبہ اس کے دوست احباب جمع تھے شراب تیار تھی اس نے اپنے غلام کو چار درہم دیے کہ شراب پینے سے پہلے دوستوں کو کھلانے کے لیے کچھ پھل خرید کر لائے. وہ غلام بازار جا رہا تھا کہ راستے میں حضرت منصور بن عمار بصری رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس پر گزر ہوا وہ کسی فقیر کے واسطےلوگوں سے کچھ مانگ رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ "جو شخص اس فقیر کو چار درہم دے میں اس کو چار دعائیں دوں گا" اس غلام نے وہ چاروں درہم اس فقیر کو دے دیے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا, بتا کیا دعائیں چاہتا ہے...؟ غلام نے کہا میرا ایک آقا ہے میں اس سے خلاصی چاہتا ہوں. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے دعا فرمائی اور پوچھا دوسری دعا کیا چاہتا ہے...؟ غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدل مل جائے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا تیسری دعا کیا ہے...؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میرے سردار کو توبہ کی توفیق دے اور اس کی دعا قبول کرے. آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا چوتھی دعا کیا ہے...؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری, میرے سردار کی, تمہاری اور یہاں مجمعے میں موجود ہر شخص کی مغفرت کرے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی یہ بھی دعا کی. اس کے بعد وہ غلام خالی ہاتھ اپنے سردار کے پاس واپس چلا گیا. سردار اسی کے انتظار میں تھا. دیکھ کر کہنے لگا " اتنی دیر لگا دی...؟ غلام نے قصہ سنایا. سردار نے ان دعاؤں کی برکت سے بجائے غصہ ہونے اور مارنے کے یہ پوچھا کہ کیا کیا دعائیں کرائیں...؟ غلام نے کہا پہلی تو یہ کہ میں غلامی سے آزاد ہو جاؤں..... سردار نے کہا میں نے تجھے آزاد کر دیا,دوسری کیا تھی...؟ غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدلہ مل جائے..... سردار نے کہا میری طرف سے تمہیں چار ہزار درہم نذر ہیں,تیسری کیا تھی....؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ تمہیں شراب وغیرہ فسق و فجور سے توبہ کی توفیق دے.... سردار نے کہا میں نے اپنے سب گناہوں سے توبہ کر لی, چوتھی کیا تھی....؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری,آپ کی, ان بزرگ کی اور سارے مجمع کی مغفرت فرما دے.... سردار نے کہا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے.... رات کو سردار کو خواب میں ایک آواز سنائی دی... جب تو نے وہ تینوں کام کر دیے جو تیرے اختیار میں تھے تو کیا تیرا یہ خیال ہے کہ اللہ وہ کام نہیں کرے گا جس پر وہ قادر ہے....؟ اللہ نے تیری, اس غلام کی, منصور کی, اور اس سارے مجمعے کی مغفرت کر دی ہے.... (ریاض الصالحین صفحہ ۱۲۰)