لوگ کہتے ھے : لاسٹ بلیٹ لوگ کہتے ھیں "شریعت کا نفاذ اور خلافت کا قیام" ھمیں ھزاروں سال پیچھے بھیج دے گا" میں پوچھتا ھوں یہ ھمیں کس زمانے کی طرف لوٹادے گا..؟؟؟ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اور صحابہ کے زمانے کی طرف نا ﴿کیا ھم اس سے بھاگیں گے..؟؟؟﴾ یا عمر فاروق رضی ﷲ عنہ کے زمانے کی طرف کہ جب وہ دو سپرپاور سمجھی جانے والی طاقتوں فارس اور روم کو فتح کر رھے تھے..؟؟؟ یا امویوں کے عھد میں کہ جب وہ خود شام میں ھوتے اور ان کے لشکر اسپین کے دل میں ..؟؟؟ یا بنو عباس کے دور کی طرف کہ جب مغرب ان کے آگے سرنگوں ھورھا تھا یا عبدالرحمن داخل کے عھد میں کہ جب وہ فرانس اور اٹلی کے گلے میں طوق پھنا رھا تھا..؟؟؟ یا عبد الرحمن اوسط کے عھد میں کہ جب وہ اسپین،پرتگال اور جنوب فرانس پر حکومت کر رھا تھا..؟؟؟ یا زنگی اور ایوبی کے زمانے میں کہ جب وہ پورے یورپ کو ناکوں چنے چبوارھے تھے..؟؟؟ یا عثمانیوں کے عھد میں کہ جب ان کا اقتدار افریقہ تک پھیل چکا تھا..؟؟؟ اگر "نفاذ شریعت اور قیام خلافت" ھمیں ان زمانوں میں دھکیل دے گا... تو... کاش.. کاش.. کاش ھم پیچھے چلے جآئیں تا کہ اسلام کی جانب سے ھمیں دی ھوئی عزت اور وقار پھر سے مل جاےٴ

تبصرے

مشہور اشاعتیں

٭٭٭ اللہ غفور الرحیم ٭٭٭ ایک شرابی کے ہاں ہر وقت شراب کا دَور رہتا تھا. ایک مرتبہ اس کے دوست احباب جمع تھے شراب تیار تھی اس نے اپنے غلام کو چار درہم دیے کہ شراب پینے سے پہلے دوستوں کو کھلانے کے لیے کچھ پھل خرید کر لائے. وہ غلام بازار جا رہا تھا کہ راستے میں حضرت منصور بن عمار بصری رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس پر گزر ہوا وہ کسی فقیر کے واسطےلوگوں سے کچھ مانگ رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ "جو شخص اس فقیر کو چار درہم دے میں اس کو چار دعائیں دوں گا" اس غلام نے وہ چاروں درہم اس فقیر کو دے دیے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا, بتا کیا دعائیں چاہتا ہے...؟ غلام نے کہا میرا ایک آقا ہے میں اس سے خلاصی چاہتا ہوں. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے دعا فرمائی اور پوچھا دوسری دعا کیا چاہتا ہے...؟ غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدل مل جائے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا تیسری دعا کیا ہے...؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میرے سردار کو توبہ کی توفیق دے اور اس کی دعا قبول کرے. آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا چوتھی دعا کیا ہے...؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری, میرے سردار کی, تمہاری اور یہاں مجمعے میں موجود ہر شخص کی مغفرت کرے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی یہ بھی دعا کی. اس کے بعد وہ غلام خالی ہاتھ اپنے سردار کے پاس واپس چلا گیا. سردار اسی کے انتظار میں تھا. دیکھ کر کہنے لگا " اتنی دیر لگا دی...؟ غلام نے قصہ سنایا. سردار نے ان دعاؤں کی برکت سے بجائے غصہ ہونے اور مارنے کے یہ پوچھا کہ کیا کیا دعائیں کرائیں...؟ غلام نے کہا پہلی تو یہ کہ میں غلامی سے آزاد ہو جاؤں..... سردار نے کہا میں نے تجھے آزاد کر دیا,دوسری کیا تھی...؟ غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدلہ مل جائے..... سردار نے کہا میری طرف سے تمہیں چار ہزار درہم نذر ہیں,تیسری کیا تھی....؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ تمہیں شراب وغیرہ فسق و فجور سے توبہ کی توفیق دے.... سردار نے کہا میں نے اپنے سب گناہوں سے توبہ کر لی, چوتھی کیا تھی....؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری,آپ کی, ان بزرگ کی اور سارے مجمع کی مغفرت فرما دے.... سردار نے کہا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے.... رات کو سردار کو خواب میں ایک آواز سنائی دی... جب تو نے وہ تینوں کام کر دیے جو تیرے اختیار میں تھے تو کیا تیرا یہ خیال ہے کہ اللہ وہ کام نہیں کرے گا جس پر وہ قادر ہے....؟ اللہ نے تیری, اس غلام کی, منصور کی, اور اس سارے مجمعے کی مغفرت کر دی ہے.... (ریاض الصالحین صفحہ ۱۲۰)