عنوان آپ خود دیں: شہزادی ایک گروپ میں لڑکی کی پوسٹ "ہیلو فرینڈز ، میں یہ گروپ چھوڑ کے جا رہی ہوں ، اگر میری کوئ بات کسی کو بری لگی ہو تو سوری" فیلنگ سَیڈ( رمضان المبارک میں شیطان کے جانشینوں کے اس پوسٹ پہ کمنٹس ملاحظہ کیجیے۔ اوہ ، کیا ہوا کیوں جارہی ہو؟؟ _!_ پلیز مت جاؤ ، گروپ کی رونق ہی آپ سے ہے۔ _!_ ہاں یہ ٹھیک کہ رہا ہے اگر آپ چلی گئیں تو گروپ ویران ہوجاۓ گا۔ _!_ میں اس گروپ کا ایڈمن ہوں ، اگر کسی نے کچھ کہا ہے تو مجھے بتاؤ میں دو منٹ میں اس کی آئ ڈی ہیک کرلوں گا۔ _!_ نہیں جی یہ جھوٹ بول رہا ہے اسے ہیکنگ نہیں آتی مجھے آتی ہے۔ _!_ اوۓ تم تمیز سے بات کرو ورنہ تمہاری آئ ڈی ہیک کرلوں گا۔ _!_ ٹھیک ہے ، کرکے دکھاؤ۔ _!_ ابھی نہیں کرسکتا ، لائٹ نہیں ہے۔ _!_ چل بے جھوٹے ، تو کر ہی نہیں سکتا۔ _!_ میں تیری )گالی( تو سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کو )گالی( _!_ تیری تو )گالی( ، ایڈمن بنا پھرتا ہے )گالی( _!_ اس دوران اس پوسٹ کرنے والی لڑکی کا کوئ جواب نہیں آیا۔ _!_ ایک نے ذرا ہمت کرکے کہ دیا : اوکے جانا ہے تو جاؤ ، ہم کیا کریں _!_ اسی وقت اس کا جوابی کمنٹ آیا "میں اسی لیے یہاں سے جانا چاہتی ہوں ، یہاں میری کوئ قدر نہیں کرتا" آگے رونے والا سٹکر _!_ اوہ ڈیئر ، آئ ایم رئیلی سوری ، میں تو بس مذاق کررہا تھا۔ _!_ ایڈمن پھر جوش میں آگیا: تمہیں شرم آنی چاہیے ایسے مذاق کرتے ہوۓ ، اچھا آپ پلیز رو مت ، آپ حکم کرو میں اس کو گروپ سے ہی نکال دیتا ہوں۔ _!_ غرض یہ کہ کئ لوگوں کی لڑائ ہوئ ، کچھ نے گالم گلوچ کی ، کچھ تو لڑکی کی حمایت میں اتنا آگے نکل گۓ کہ ایک دوسرے کو گھر سے اٹھوانے کی دھمکیاں دے ڈالیں۔ اب ذرا کہانی کا ختم شد والا حصہ ملاحظہ کریں۔ تین سو سے زائد کمنٹس کے بعد ، پوسٹ کرنے والی لڑکی کا کمنٹ "بیغیرت کے بچو ، میں یہی دیکھنا چاہتا تھا کہ اس گروپ میں ٹھرکی کون کون ہے ، میں لڑکی نہیں ہوں تمہارا باپ ہوں ہاہاہاہاہاہاہا" اس کے ساتھ ہی ایک دفعہ پھر گالیوں اور لعنتوں کا سلسلہ شروع پاکستانیوں کی اخلاقی حالت کا یہ ادنیٰ سا نمونہ ہے اور یقیناً آپ لوگوں نے بھی ایسے کئ واقعات دیکھے ہوں گے اور امید ہے آپ میں سے کئ اس میں ملوث بھی رہے ہوں گے

تبصرے

مشہور اشاعتیں

٭٭٭ اللہ غفور الرحیم ٭٭٭ ایک شرابی کے ہاں ہر وقت شراب کا دَور رہتا تھا. ایک مرتبہ اس کے دوست احباب جمع تھے شراب تیار تھی اس نے اپنے غلام کو چار درہم دیے کہ شراب پینے سے پہلے دوستوں کو کھلانے کے لیے کچھ پھل خرید کر لائے. وہ غلام بازار جا رہا تھا کہ راستے میں حضرت منصور بن عمار بصری رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس پر گزر ہوا وہ کسی فقیر کے واسطےلوگوں سے کچھ مانگ رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ "جو شخص اس فقیر کو چار درہم دے میں اس کو چار دعائیں دوں گا" اس غلام نے وہ چاروں درہم اس فقیر کو دے دیے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا, بتا کیا دعائیں چاہتا ہے...؟ غلام نے کہا میرا ایک آقا ہے میں اس سے خلاصی چاہتا ہوں. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے دعا فرمائی اور پوچھا دوسری دعا کیا چاہتا ہے...؟ غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدل مل جائے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا تیسری دعا کیا ہے...؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میرے سردار کو توبہ کی توفیق دے اور اس کی دعا قبول کرے. آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا چوتھی دعا کیا ہے...؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری, میرے سردار کی, تمہاری اور یہاں مجمعے میں موجود ہر شخص کی مغفرت کرے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی یہ بھی دعا کی. اس کے بعد وہ غلام خالی ہاتھ اپنے سردار کے پاس واپس چلا گیا. سردار اسی کے انتظار میں تھا. دیکھ کر کہنے لگا " اتنی دیر لگا دی...؟ غلام نے قصہ سنایا. سردار نے ان دعاؤں کی برکت سے بجائے غصہ ہونے اور مارنے کے یہ پوچھا کہ کیا کیا دعائیں کرائیں...؟ غلام نے کہا پہلی تو یہ کہ میں غلامی سے آزاد ہو جاؤں..... سردار نے کہا میں نے تجھے آزاد کر دیا,دوسری کیا تھی...؟ غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدلہ مل جائے..... سردار نے کہا میری طرف سے تمہیں چار ہزار درہم نذر ہیں,تیسری کیا تھی....؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ تمہیں شراب وغیرہ فسق و فجور سے توبہ کی توفیق دے.... سردار نے کہا میں نے اپنے سب گناہوں سے توبہ کر لی, چوتھی کیا تھی....؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری,آپ کی, ان بزرگ کی اور سارے مجمع کی مغفرت فرما دے.... سردار نے کہا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے.... رات کو سردار کو خواب میں ایک آواز سنائی دی... جب تو نے وہ تینوں کام کر دیے جو تیرے اختیار میں تھے تو کیا تیرا یہ خیال ہے کہ اللہ وہ کام نہیں کرے گا جس پر وہ قادر ہے....؟ اللہ نے تیری, اس غلام کی, منصور کی, اور اس سارے مجمعے کی مغفرت کر دی ہے.... (ریاض الصالحین صفحہ ۱۲۰)