خدا واقعات کی زبان میں بولتا ھے ،،،،، سورہ یوسف پڑھ لیں ،،،،،،،، ھر جگہ تقدیر کا رستہ روکنے والوں نے ٹھیک خدا کی منشاء کو ھی پورا کیا ھے اور اللہ کے مقصد کو حاصل کرنے میں اس کی مدد کی ھے ، کھلونے ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، باپ نے ھونی کا رستہ روکنے کے لئے تدبیر کی کہ بھائیوں کو خواب مت بتانا ورنہ وہ کوئی چال چل جائیں گے تا کہ اس خواب کی تعبیر حاصل نہ ھو ،،،،،،،،،،،،،،،، مگر خود یوسف کو مستقبل کا نبی جان کر ان سے ٹوٹ کر پیار کرنا شروع کر دیا اور بھائیوں کے وار کی راہ ھموار کر دی ،، خود بھیڑیئے والا آئیڈیا ان کے کان میں پھونک دیا " و اخاف ان یأکلہ الذئب و انتم عنہ غافلو ن ،،،،، بھائیوں نے جان چھڑانے کے لئے ٹھیک وھی کنواں چنا جہاں مصر کے قافلے کو آنا تھا ،قافلے والوں نے ٹھیک اس گھر میں بیچا جہاں زلیخا تھی ،زلیخا نے ٹھیک اس وقت جیل پہنچایا جب وھاں بادشاہ کا ساقی آیا ، یوسف علیہ السلام کا ساقی کو اپنے کیس کا حوالہ ،،مگر ساقی کا بھول جانا اور یوسف علیہ السلام کا اللہ کی لکھی گئ مدت پوری کرنا ، عین قحط کے زمانے میں بادشاہ کا خواب ،یوسف کی تعبیر و تدبیر ،،، بھائیوں کا آنا ،،،،،،،،،،،،،،،،،، واقعات کی لائن لگی ھوئی ھے اور ھر بندہ اللہ کے لکھے ھوئے کو ایک کھلونے میں بھری گئ چابی کی طرح پورا کرتا چلا جا رھا ھے واللہ غالب علی امرہ ،، اللہ اپنا مقصد پا کر ھی رھتا ھے ،،،،،،،جس دن سے یہ سمجھا ھے واقعات و حادثات کے پیچھے فاعل حقیقی کھل کر کچھ اس طرح سامنے آیا ھے کہ ،،،،،،،،، اب واقعات کے معاملے میں بے حسی طاری ھو گئ ھے ،، نہ شادی داد سامنے ، نہ غم آورد نقصانے ،، باپیشِ ھمتِ ما ھر چہ آمد بود مہمانے !! سامانِ زندگی ملے تو خوشی نہیں ھوتی ، ضائع ھو جائے تو غم نہیں ھوتا ،، میرے ایمان کے سامنے یہ سب مہمان کی طرح آتے ھیں میں ان کو اچھے طریقے سے انٹرٹین کر کے فارغ کر دیتا ھوں ،،،،،،،،،، بس تجسس یہ ھوتا ھے کہ اب رحمان کیا کرنے جا رھا ھے ،،،،،،،،،،،،،،،،،،

تبصرے

مشہور اشاعتیں

٭٭٭ اللہ غفور الرحیم ٭٭٭ ایک شرابی کے ہاں ہر وقت شراب کا دَور رہتا تھا. ایک مرتبہ اس کے دوست احباب جمع تھے شراب تیار تھی اس نے اپنے غلام کو چار درہم دیے کہ شراب پینے سے پہلے دوستوں کو کھلانے کے لیے کچھ پھل خرید کر لائے. وہ غلام بازار جا رہا تھا کہ راستے میں حضرت منصور بن عمار بصری رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس پر گزر ہوا وہ کسی فقیر کے واسطےلوگوں سے کچھ مانگ رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ "جو شخص اس فقیر کو چار درہم دے میں اس کو چار دعائیں دوں گا" اس غلام نے وہ چاروں درہم اس فقیر کو دے دیے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا, بتا کیا دعائیں چاہتا ہے...؟ غلام نے کہا میرا ایک آقا ہے میں اس سے خلاصی چاہتا ہوں. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے دعا فرمائی اور پوچھا دوسری دعا کیا چاہتا ہے...؟ غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدل مل جائے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا تیسری دعا کیا ہے...؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میرے سردار کو توبہ کی توفیق دے اور اس کی دعا قبول کرے. آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا چوتھی دعا کیا ہے...؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری, میرے سردار کی, تمہاری اور یہاں مجمعے میں موجود ہر شخص کی مغفرت کرے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی یہ بھی دعا کی. اس کے بعد وہ غلام خالی ہاتھ اپنے سردار کے پاس واپس چلا گیا. سردار اسی کے انتظار میں تھا. دیکھ کر کہنے لگا " اتنی دیر لگا دی...؟ غلام نے قصہ سنایا. سردار نے ان دعاؤں کی برکت سے بجائے غصہ ہونے اور مارنے کے یہ پوچھا کہ کیا کیا دعائیں کرائیں...؟ غلام نے کہا پہلی تو یہ کہ میں غلامی سے آزاد ہو جاؤں..... سردار نے کہا میں نے تجھے آزاد کر دیا,دوسری کیا تھی...؟ غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدلہ مل جائے..... سردار نے کہا میری طرف سے تمہیں چار ہزار درہم نذر ہیں,تیسری کیا تھی....؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ تمہیں شراب وغیرہ فسق و فجور سے توبہ کی توفیق دے.... سردار نے کہا میں نے اپنے سب گناہوں سے توبہ کر لی, چوتھی کیا تھی....؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری,آپ کی, ان بزرگ کی اور سارے مجمع کی مغفرت فرما دے.... سردار نے کہا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے.... رات کو سردار کو خواب میں ایک آواز سنائی دی... جب تو نے وہ تینوں کام کر دیے جو تیرے اختیار میں تھے تو کیا تیرا یہ خیال ہے کہ اللہ وہ کام نہیں کرے گا جس پر وہ قادر ہے....؟ اللہ نے تیری, اس غلام کی, منصور کی, اور اس سارے مجمعے کی مغفرت کر دی ہے.... (ریاض الصالحین صفحہ ۱۲۰)