میں ہر صبح اپنی بیگم کو اس کی یونیورسٹی چهوڑنے جاتا تها.یونیورسٹی کے مین گیٹ پہ پہنچ کے میں گاڑی روکتا اور نیچے اتر کر دوسری طرف کا دروازہ کھولتا ،خوش اسلوبی اور تبسم ہونٹوں پہ بکهیرتے مگر ہاتهہ پکڑ کے انہیں نیچے اتارتا،وہ اپنی سہیلیوں کے ساتهه ہنستی مسکراتی اندر چلی جاتی اور میں گهر کی راہ لیتا ، دوپہر میں آتا چاک و چوبند شاہی نوکر کی طرح گاڑی کا دروازہ کھولتا وہ کسی شہزادی کی طرح گاڑی کی فرنٹ سیٹ میں اک ادائے دلبرانہ اور مسکان قاتلانہ کے ساتهه فروکش ہوتی پهر ہم گهر چلے جاتے اگلی صبح پهر .....یہ ہمارے روز کا معمول تها.ادهر یونیورسٹی میں ، میرا چرچا لڑکیوں کے درمیان خوب ہوا جارہا تها.کوئی کہتی "اللہ ہر کسی کو ایسا رومانس اور ٹوٹ کے محبت کرنے والا شوهر دے." تو کسی کے لبوں میں دعائیں ہوتی ."خدایا اس جوڑے کو صدا سکهی اور شاد رکهه " کچهه رشک کی انتہا کو پہنچتی "رب کریم مجهے بهی ایسا ہی چاہنے والا شریک حیات نصیب کر." لیکن سچ میں ہمارے درمیان کوئی رومانس تها نہ محبت !!! دراصل گاڑی کا دروازہ خراب تها جو صرف باهر سے کهولنے کی صورت ہی کهلتا تها.

تبصرے

مشہور اشاعتیں

٭٭٭ اللہ غفور الرحیم ٭٭٭ ایک شرابی کے ہاں ہر وقت شراب کا دَور رہتا تھا. ایک مرتبہ اس کے دوست احباب جمع تھے شراب تیار تھی اس نے اپنے غلام کو چار درہم دیے کہ شراب پینے سے پہلے دوستوں کو کھلانے کے لیے کچھ پھل خرید کر لائے. وہ غلام بازار جا رہا تھا کہ راستے میں حضرت منصور بن عمار بصری رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس پر گزر ہوا وہ کسی فقیر کے واسطےلوگوں سے کچھ مانگ رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ "جو شخص اس فقیر کو چار درہم دے میں اس کو چار دعائیں دوں گا" اس غلام نے وہ چاروں درہم اس فقیر کو دے دیے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا, بتا کیا دعائیں چاہتا ہے...؟ غلام نے کہا میرا ایک آقا ہے میں اس سے خلاصی چاہتا ہوں. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے دعا فرمائی اور پوچھا دوسری دعا کیا چاہتا ہے...؟ غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدل مل جائے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا تیسری دعا کیا ہے...؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میرے سردار کو توبہ کی توفیق دے اور اس کی دعا قبول کرے. آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا چوتھی دعا کیا ہے...؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری, میرے سردار کی, تمہاری اور یہاں مجمعے میں موجود ہر شخص کی مغفرت کرے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی یہ بھی دعا کی. اس کے بعد وہ غلام خالی ہاتھ اپنے سردار کے پاس واپس چلا گیا. سردار اسی کے انتظار میں تھا. دیکھ کر کہنے لگا " اتنی دیر لگا دی...؟ غلام نے قصہ سنایا. سردار نے ان دعاؤں کی برکت سے بجائے غصہ ہونے اور مارنے کے یہ پوچھا کہ کیا کیا دعائیں کرائیں...؟ غلام نے کہا پہلی تو یہ کہ میں غلامی سے آزاد ہو جاؤں..... سردار نے کہا میں نے تجھے آزاد کر دیا,دوسری کیا تھی...؟ غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدلہ مل جائے..... سردار نے کہا میری طرف سے تمہیں چار ہزار درہم نذر ہیں,تیسری کیا تھی....؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ تمہیں شراب وغیرہ فسق و فجور سے توبہ کی توفیق دے.... سردار نے کہا میں نے اپنے سب گناہوں سے توبہ کر لی, چوتھی کیا تھی....؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری,آپ کی, ان بزرگ کی اور سارے مجمع کی مغفرت فرما دے.... سردار نے کہا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے.... رات کو سردار کو خواب میں ایک آواز سنائی دی... جب تو نے وہ تینوں کام کر دیے جو تیرے اختیار میں تھے تو کیا تیرا یہ خیال ہے کہ اللہ وہ کام نہیں کرے گا جس پر وہ قادر ہے....؟ اللہ نے تیری, اس غلام کی, منصور کی, اور اس سارے مجمعے کی مغفرت کر دی ہے.... (ریاض الصالحین صفحہ ۱۲۰)