جنتیوں کا قد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام ادنٰی و اعلٰی جنتی حضرت آدم علیہ السلام کے قد پر ہونگے۔ اور آپ کا قد مبارک ستر ہاتھ تھا۔ جنتی جوان بے ریش ہونگے آنکھوں میں سرمہ لگا ہو گا۔ ان کے بال گرم پانی سے دھلے ہونگے اور ان کی عورتیں بھی ایک ہی طرح کی ہونگی۔ جنت کا درخت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ سوار اس کے سائے میں سات سو سال چلے گا پھر بھی ختم نہ ہو گا اس کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور اس کی ہر شاخ پر شہر آباد ہے۔ ہر شہر کی لمبائی دس ہزار میل ہے اور دو شہروں کے درمیان مشرق سے مغرب کے درمیان جتنا فاصلہ ہے اور سبیل کے جشمے ان محلات سے شہروں کی طرف رواں ہونگے۔ ایک پتے کے سائے میں ایک بہت بڑی جماعت بیٹھے گی۔ جنتی مرد اور اس کی زوجہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی جنتی اپنی بیوی کے پاس جائے گا تو وہ اسے کہے گی اللہ کی قسم جس نے مجھے تیرے سبب اعزاز بخشا مجھے جنت کی کوئی چیز تجھ سے زیادہ پسند نہیں۔ آپ نے فرمایا مرد بھی اسے یہی بات کہے گا۔ جنت کی بے مثل اشیاء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں وہ کچھ ہے کہ تعریف کرنے والے اس کی تعریف نہیں کر سکتے اور نہ دنیا والوں کے دلوں میں اس کا خیال آ سکتا ہے اور نہ ہی کسی سننے والے نے اسے سنا ہے اور اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جن کو مخلوق نے نہیں دیکھا۔ جنتی پرندہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی پرندہ کے ستر ہزار پر ہونگے ہر پر کا رنگ دوسرے سے جدا ہو گا اور ہر پر ایک مربع میل ہو گا جب کوئی مومن اس کی خواہش کرے گا تو اسے ایک پیالے میں رکھا جائے گا اور وہ اپنے آپ کو جھاڑے گا تو اس سے پکے ہوئے اور بھنے ہوئے پرندے کی طرح ستر کھانے ظاہر ہونگے اس کے علاوہ مختلف رنگ ہونگے ان کا ذائقہ مَنْ سے بھی زیادہ اچھا ہو گا مکھن سے زیادہ نرم ہو گا اور چھاچھ سے زیادہ سفید ہو گا جب جنتی اسے کھا لے گا تو وہ اپنے پروں کو جھاڑتے ہوئے اڑ جائے گا اور اس کا ایک پر بھی کم نہ ہو گا۔ اللہ تعالٰی کی زیارت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنتی دار السلام میں اللہ تعالٰی کی زیارت کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتی اپنے رب کی زیارہت کریں گے تو کھائیں پئیں گے اور نفع اندوز ہونگے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا اللہ تعالٰی فرمائے گا اے داؤد علیہ السلام اپنی بہترین آواز سے میری بزرگی بیان کرو پس وہ جب تک اللہ تعالٰی چاہے گا اس کی بزرگی بیان کریں گے۔ ان کی خوش آوازی سے جنت کی ہر چیز خاموش ہو جائے گی پھر اللہ تعالٰی ان میں سے ہر ایک کو لباس اور زیور عطا فرمائے گا اور وہ اپنے اہل خانہ کی طرف لوٹ آئیں گے۔ جنتی بیویاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل جنت کی بیویوں میں سے ہر ایک کے سینے پر لکھا ہو گا تو میرا محبوب اور میں تیری محبوبہ نہ تجھ سے رو گردانی کی جائے گی اور نہ کوتاہی۔ میرے دل میں کسی قسم کا کھوٹ اور آلائش نہیں، جنتی جب اپنی بیوی کے سینے کی طرف دیکھے گا تو چمڑے اور گوشت کے اوپر سے اس کے جگر کی سیاہی دیکھ لے گا گویا عورت کا جگر اس کے لئے شیشہ ہے۔ اور اس کا جگر عورت کا شیشہ ہے۔ وہ جگر عورت میں اس طرح غائب ہو گا جس طرح یا وقت میں دھاگہ غائب ہوتا ہے۔ (یعنی نظر آئے گا) وہ مرجان کی طرح سفید اور یا قوت کی طرح صاف و شفاف ہونگی۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ”گویا وہ یا قوت اور مرجان ہیں“ (غنیۃ الطالبین، مصنف: شیح عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ

تبصرے

مشہور اشاعتیں

٭٭٭ اللہ غفور الرحیم ٭٭٭ ایک شرابی کے ہاں ہر وقت شراب کا دَور رہتا تھا. ایک مرتبہ اس کے دوست احباب جمع تھے شراب تیار تھی اس نے اپنے غلام کو چار درہم دیے کہ شراب پینے سے پہلے دوستوں کو کھلانے کے لیے کچھ پھل خرید کر لائے. وہ غلام بازار جا رہا تھا کہ راستے میں حضرت منصور بن عمار بصری رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس پر گزر ہوا وہ کسی فقیر کے واسطےلوگوں سے کچھ مانگ رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ "جو شخص اس فقیر کو چار درہم دے میں اس کو چار دعائیں دوں گا" اس غلام نے وہ چاروں درہم اس فقیر کو دے دیے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا, بتا کیا دعائیں چاہتا ہے...؟ غلام نے کہا میرا ایک آقا ہے میں اس سے خلاصی چاہتا ہوں. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے دعا فرمائی اور پوچھا دوسری دعا کیا چاہتا ہے...؟ غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدل مل جائے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا تیسری دعا کیا ہے...؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میرے سردار کو توبہ کی توفیق دے اور اس کی دعا قبول کرے. آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا چوتھی دعا کیا ہے...؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری, میرے سردار کی, تمہاری اور یہاں مجمعے میں موجود ہر شخص کی مغفرت کرے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی یہ بھی دعا کی. اس کے بعد وہ غلام خالی ہاتھ اپنے سردار کے پاس واپس چلا گیا. سردار اسی کے انتظار میں تھا. دیکھ کر کہنے لگا " اتنی دیر لگا دی...؟ غلام نے قصہ سنایا. سردار نے ان دعاؤں کی برکت سے بجائے غصہ ہونے اور مارنے کے یہ پوچھا کہ کیا کیا دعائیں کرائیں...؟ غلام نے کہا پہلی تو یہ کہ میں غلامی سے آزاد ہو جاؤں..... سردار نے کہا میں نے تجھے آزاد کر دیا,دوسری کیا تھی...؟ غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدلہ مل جائے..... سردار نے کہا میری طرف سے تمہیں چار ہزار درہم نذر ہیں,تیسری کیا تھی....؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ تمہیں شراب وغیرہ فسق و فجور سے توبہ کی توفیق دے.... سردار نے کہا میں نے اپنے سب گناہوں سے توبہ کر لی, چوتھی کیا تھی....؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری,آپ کی, ان بزرگ کی اور سارے مجمع کی مغفرت فرما دے.... سردار نے کہا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے.... رات کو سردار کو خواب میں ایک آواز سنائی دی... جب تو نے وہ تینوں کام کر دیے جو تیرے اختیار میں تھے تو کیا تیرا یہ خیال ہے کہ اللہ وہ کام نہیں کرے گا جس پر وہ قادر ہے....؟ اللہ نے تیری, اس غلام کی, منصور کی, اور اس سارے مجمعے کی مغفرت کر دی ہے.... (ریاض الصالحین صفحہ ۱۲۰)